• Featured Post

    live cricket

     

    عمران خان کی ’لٹل ویت نام‘ میں انٹری Imran Khan's' Little entry into Vietnam

    پاکستان تحریک انصاف نے جس دادو شہر سے گذشتہ عام انتخابات میں صرف 704 ووٹ لیے تھے وہاں دو روز قبل رکشوں، ریڑھیوں، ہوٹلوں، بجلی کے کھمبوں یعنی ہر طرف تحریک انصاف کے جھنڈے دیکھنے اور سیاسی ترانے سننے کو ملے۔
    دادو میں اس بدلتے منظرنامے کی وجہ سابق وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر لیاقت جتوئی تھے جو کئی دہائیوں سے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں میں رہے اور اب انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
    پاکستان میں بحالیِ جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں دادو کا متحرک کردار رہا، جہاں ایک احتجاج کے دوران فوج کی فائرنگ میں ہلاکتوں کے بعد اس شہر کو لٹل ویتنام کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
    دادو میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاست قوت کے طور پر رہی ہے، لیکن بعد میں یہاں سے قوم پرست رہنما عبدالحمید جتوئی متبادل سیاسی قیادت کے طور پر سامنے آئے۔ وہ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ نیشنل الائنس کے سربراہ رہے۔
    جب قوم پرستوں کی مسلم لیگ نون کے ساتھ قربتیں بڑھیں تو ان کے بڑے فرزند اعجاز جتوئی اور لیاقت جتوئی مسلم لیگ میں شام ہو گئے۔ بعد میں لیاقت جتوئی وزیر خزانہ، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر کے عہدے پر پہنچے اور دادو میں اپنا اثر رسوخ بڑھاتے گئے۔


    تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ ’لیاقت جتوئی کا سیاست میں کوئی مثبت کردار نہیں بلکہ ان کا کافی موقع پرستانہ کردار رہا ہے۔ وہ سندھ قومی اتحاد میں رہے، اس کے بعد مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جنرل مشرف کے ساتھ رہے اور مشرف کی آمرانہ پالیسیوں کا دفاع کرتے تھے۔‘

    No comments